صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۱ - عمرہ میں بال کٹوانے کی سنت
عمرہ میں بال کٹوانا: مروہ پر قصر کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۰۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۱
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ : " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ " ، فَقُلْتُ لَهُ : " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ " .
طاؤس روایت:
مجھ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا، مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں خبر دے چکا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے بال کترے ہیں مروہ کے نزدیک تیر کی پیکان سے سو میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ تو تمہارے اوپر حجت ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عمرہ میں بال کٹوانا یعنی قصر ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سر مبارک کے بال مروہ کے قریب تیر کی پیکان سے کترے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس بات کو ان کے لیے حجت قرار دیا۔ اس سے اتنی بات صاف سمجھ آتی ہے کہ عمرہ کے عمل میں بال کٹوانے کا ذکر موجود ہے، اور یہ واقعہ مروہ کے قریب پیش آیا۔ یہاں حدیث کا زور اسی بات پر ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بال کترے گئے۔ اس لیے جو لوگ عمرہ میں حلق و قصر، عمرہ کے بعد بال کٹوانا، یا مروہ پر قصر کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ کے اعمال کے بعد بال کٹوانے کا عمل حدیث سے ثابت ہے۔
- مروہ کے قریب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بال کترنے کا واقعہ اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
- دینی بات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کی روایت کو دلیل کے طور پر دیکھتے تھے۔
- حدیث کے الفاظ کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جتنا متن میں بیان ہوا ہے۔
