صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۲ - مروہ پر بال کٹوانے کا بیان
مروہ پر قصر: عمرہ کے بعد بال کٹوانے کی روایت
صحیح مسلم : ۳۰۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۲
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ " .
معاویہ روایت:
میں نے بال کترے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مروہ کے اوپر تیر کی بھال سے یا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بال کتروا رہے ہیں تیر کی بھال سے مروہ پر۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل ہوا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بال تیر کی بھال سے کترے، یا انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے بال مروہ پر کترے جا رہے تھے۔ اس روایت میں دو الفاظ کے ساتھ بات آئی ہے: یا تو خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بال کترے، یا انہوں نے یہ عمل ہوتے دیکھا۔ دونوں صورتوں میں اصل بات یہی ہے کہ مروہ کے مقام پر قصر یعنی بال کٹوانے کا ذکر ہے۔ عمرہ میں بال کٹوانا، قصر کی حدیث، اور مروہ پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بال کٹوانے جیسے موضوعات اسی روایت سے جڑے ہیں۔ اس حدیث سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ راوی نے بات کو امانت کے ساتھ بیان کیا اور جہاں لفظ میں احتمال تھا، وہاں اسے صاف ذکر کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی نے جو بات سنی یا دیکھی، اسے احتیاط کے ساتھ بیان کیا۔
- مروہ کے مقام پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بال کٹوانے کا ذکر اس روایت میں موجود ہے۔
- عمرہ کے بعد قصر یعنی بال کٹوانا حدیث کے متن سے ثابت ہوتا ہے۔
- حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کی امانت بہت اہم ہے۔
