صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۸ - لبیک عمرہ و حج
لبیک عمرہ و حج: حج قران کی تلبیہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۰۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا ، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ ، عُمْرَةً وَحَجًّا " .
انس روایت:
سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری حج اور عمرہ دونوں کی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو سنا، آپ صلى الله عليه وسلم حج اور عمرہ دونوں کی لبیک پکار رہے تھے۔ الفاظ میں آتا ہے: لبیک عمرہً و حجاً۔ اس روایت کا بنیادی موضوع تلبیہ، حج قران، اور حج و عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے کی نیت ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ صرف وہ الفاظ بیان کیے گئے ہیں جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کہے۔ اسی لیے اس سے اتنی بات صاف سمجھ آتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر عمرہ اور حج دونوں کا ذکر تلبیہ میں فرمایا۔ جو لوگ لبیک عمرہ و حج، حج قران کی نیت، یا نبی صلى الله عليه وسلم کی تلبیہ کے الفاظ تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت خاص طور پر اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تلبیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا ذکر فرمایا۔
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خود سن کر یہ الفاظ بیان کیے۔
- حج قران کے موضوع پر یہ روایت واضح الفاظ فراہم کرتی ہے۔
- عبادت کی نیت زبان کے الفاظ سے بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
