صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۹ - تلبیہ کے الفاظ کا بیان

حج اور عمرہ کی تلبیہ: لبیک عمرہ و حج

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۲۹

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا " ، وقَالَ حُمَيْدٌ : قَالَ أَنَسٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ " .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث بیان کی گئی ہے۔ ایک روایت میں «‏‏‏‏لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ‏‏‏‏ کے الفاظ ہیں اور دوسری روایت میں «‏‏‏‏لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ» ‏‏‏‏ کے الفاظ ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی وہی مضمون آیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کی تلبیہ کہی۔ ایک روایت میں الفاظ ہیں: لبیک عمرہً و حجاً، اور دوسری روایت میں: لبیک بعمرۃ و حج۔ دونوں الفاظ کا بنیادی مطلب یہی ہے کہ تلبیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا ذکر ہوا۔ اس روایت کی خاص بات یہ ہے کہ راویوں نے الفاظ کے فرق کو محفوظ کیا۔ اس سے ہمیں حدیث کے نقل ہونے میں احتیاط کا انداز بھی سمجھ آتا ہے۔ اس کا موضوع حج قران کی تلبیہ، لبیک عمرہ و حج، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے تلبیہ کے الفاظ ہیں۔ متن میں جو بات آئی ہے، اسی تک بات محدود رہتی ہے: آپ صلى الله عليه وسلم نے عمرہ اور حج دونوں کے ساتھ لبیک کہی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تلبیہ میں عمرہ اور حج دونوں کا ذکر نقل ہوا ہے۔
  • راویوں نے الفاظ کے معمولی فرق کو بھی بیان کیا۔
  • حدیث کی روایت میں امانت اور احتیاط اہم ہے۔
  • عبادت کے الفاظ کو اسی طرح نقل کرنا چاہیے جیسے وہ پہنچے ہوں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں