صحیح مسلم حدیث ۳۰۹ - مال غنیمت میں خیانت کی وعید

مال غنیمت میں خیانت اور ایمان کی شرط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ ، أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : فُلَانٌ شَهِيدٌ ، فُلَانٌ شَهِيدٌ ، حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالُوا : فُلَانٌ شَهِيدٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ ، أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ ، فَنَادَيْتُ ، " أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ " .

عمر بن خطاب روایت:

جب خیبر کا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ رضی اللہ عنہم آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید ہے اور فلاں شہید ہے، یہاں تک گزرے ایک شخص پر تو کہا: یہ شہید ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہرگز نہیں، میں نے اس کو جہنم میں دیکھا ایک چادر یا عبا کی چوری میں۔ “ (یعنی چوری کی وجہ سے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اے خطاب کے بیٹے! اٹھ اور پکار دے لوگوں میں کہ جنت میں وہی جائیں گے جو ایمان دار ہیں۔ “ (اور چور نہ جائیں گے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نکلا اور میں نے پکار دیا لوگوں میں۔ ” خبردار ہو جاؤ، جنت میں وہی جائیں گے جو ایمان دار ہیں۔ “

صحیح مسلم حدیث ۳۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں خیبر کے دن کا واقعہ ہے۔ بعض صحابہ مختلف لوگوں کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ وہ شہید ہیں۔ جب ایک شخص کے بارے میں بھی یہی کہا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہیں، میں نے اسے ایک چادر یا عبا کی چوری کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دیں: جنت میں وہی داخل ہوں گے جو ایمان والے ہیں۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ ظاہری طور پر جنگ میں شریک ہونا کافی نہیں، امانت داری بھی ضروری ہے۔ مال غنیمت میں خیانت، چوری، اور ایمان کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال غنیمت میں خیانت سخت خطرناک عمل ہے۔
  • ظاہری شہادت کا حکم ہر شخص کے لیے جلدی نہیں لگایا جا سکتا۔
  • جنت میں داخلے کے لیے ایمان اصل شرط ہے۔
  • امانت داری ایمان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں