صحیح مسلم حدیث ۳۱۳ - فتنوں سے پہلے نیک اعمال کی جلدی
فتنوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو
صحیح مسلم : ۳۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۳
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ، وَيُمْسِي كَافِرًا ، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا ، وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلدی جلدی نیک کام کر لو ان فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے، صبح کو آدمی ایماندار ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو ایماندار ہو گا اور صبح کو کافر ہو گا اور اپنے دین کو بیچ ڈالے گا دنیا کے مال کے بدلے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی نصیحت فرمائی، اس سے پہلے کہ ایسے فتنے آئیں جو اندھیری رات کے ٹکڑوں جیسے ہوں گے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ آدمی صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر، یا شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر۔ وہ اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے مال کے بدلے بیچ دے گا۔ یہ بات انسان کو غفلت سے جگاتی ہے کہ ایمان کی حفاظت صرف دعوے سے نہیں ہوتی، بلکہ نیک عمل اور دین کی قدر سے ہوتی ہے۔ فتنوں کی حدیث، نیک اعمال، ایمان کی حفاظت، اور دنیا کے بدلے دین بیچنا اس روایت کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک کاموں میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
- فتنوں کے وقت ایمان کی حفاظت مشکل ہو سکتی ہے۔
- دنیا کے فائدے کے لیے دین بیچنا سخت نقصان کی بات ہے۔
- ایمان کو عمل کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
