صحیح مسلم حدیث ۳۱۸ - اسلام لانے کے بعد جاہلیت کے اعمال
اچھے اسلام کے بعد جاہلیت کے کاموں کا معاملہ
صحیح مسلم : ۳۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۸
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الإِسْلَامِ ، فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا ، وَمَنْ أَسَاءَ ، أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالإِسْلَامِ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کچھ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا رسول اللہ! کیا ہم سے پوچھ ہو گی ان کاموں کی جو ہم نے جاہلیت کے زمانے میں کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے جو اچھی طرح اسلام لایا (یعنی سچا مسلمان ہوا دل سے) اس سے تو پوچھ نہ ہو گی جاہلیت کے کاموں کی اور جو برا ہے (یعنی صرف ظاہر میں مسلمان ہوا اور دل میں اس کے کفر رہا) اس سے پوچھ ہو گی جاہلیت اور اسلام دونوں وقت کے کاموں کی۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا جاہلیت کے زمانے میں کیے گئے کاموں پر ہماری پکڑ ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو اچھی طرح اسلام لایا، اس سے ان کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا۔ اور جو برا رہا، اس سے جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں کے کاموں کی پکڑ ہو گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع اسلام قبول کرنے کے بعد انسان کا حال ہے۔ صرف نام کا اسلام کافی نہیں، بلکہ اچھے طریقے سے اسلام لانا مراد ہے۔ جاہلیت کے اعمال، اچھا اسلام، مواخذہ، اور اسلام میں نیکی اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھے طریقے سے اسلام لانے والے کے لیے جاہلیت کے اعمال کا مواخذہ نہیں۔
- اسلام کے بعد برائی اختیار کرنا سخت خطرے کی بات ہے۔
- انسان کے نئے دینی حال کی بڑی اہمیت ہے۔
- سچا اسلام عمل اور دل دونوں سے متعلق ہے۔
