صحیح مسلم حدیث ۳۱۷ - ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی جنت کی بشارت
ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ: چلتا پھرتا جنتی شخص
صحیح مسلم : ۳۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۷
وحَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، وَزَادَ فَكُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
اس روایت میں بھی سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں۔ اتنا زیادہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کے بیچ میں چلتے تھے ہم ان کو دیکھتے تھے کہ ایک شخص جنتی ہم میں جا رہا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۷ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کا ایک اور بیان ہے۔ اس میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں، لیکن ایک اضافہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان چلتے تھے اور ہم انہیں دیکھتے تھے کہ جنتی شخص ہمارے درمیان جا رہا ہے۔ یہ جملہ بہت نرم اور ایمان بڑھانے والا ہے، مگر اسے اسی خاص صحابی کے بارے میں سمجھنا چاہیے جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بشارت آئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بشارت، نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب، اور صحابہ کا یقین ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت بیان ہوئی۔
- صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر پر یقین رکھتے تھے۔
- آیت کے خوف کے بعد اللہ نے ان کے لیے خوش خبری ظاہر فرمائی۔
