صحیح مسلم حدیث ۳۱۹ - اسلام میں نیکی اور پچھلے اعمال

اسلام میں نیکی کرو، پچھلے کاموں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلَامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلَامِ ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم سے مواخذہ ہو گا ان کاموں کا جو جاہلیت کے وقت میں کئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نیکی کی اسلام میں اس سے جاہلیت کے کاموں کا مواخذہ نہ ہو گا اور جس نے برائی کی اسلام میں اس سے مواخذہ ہو گا اگلے (یعنی کفر) اور پچھلے (یعنی اسلام، دونوں وقت کے کاموں کا)۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۱۹ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا جاہلیت کے زمانے کے کاموں پر ہماری پکڑ ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اسلام میں نیکی کی، اس سے جاہلیت کے کاموں کا مواخذہ نہیں ہو گا۔ اور جس نے اسلام میں برائی کی، اس سے پہلے اور پچھلے دونوں کا مواخذہ ہو گا۔ یہ حدیث انسان کو امید بھی دیتی ہے اور ذمہ داری بھی۔ امید اس بات کی کہ اچھا اسلام پچھلی زندگی کے بارے میں رحمت کا سبب بنتا ہے، اور ذمہ داری اس بات کی کہ اسلام کے بعد برائی کو ہلکا نہ لیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اسلام میں نیکی اختیار کرنا پچھلی زندگی کے معاملے میں رحمت کا سبب ہے۔
  • اسلام کے بعد برائی کرنا بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔
  • جاہلیت کے اعمال کے بارے میں صحابہ نے سوال کیا اور جواب ملا۔
  • نئے ایمان کے بعد عمل کی اصلاح ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں