صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۲ - سنت کو بھولنے سے بچنا
مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ اور سنت کی یاد
صحیح مسلم : ۳۰۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹۲
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ : هَذَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا ، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " ،
عبدالرحمٰن روایت:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے لبیک پکاری جب مزدلفہ سے لوٹے تو لوگوں نے کہا کہ شاید یہ کوئی گاؤں کا آدمی ہے (یعنی جو اب لبیک پکارتا ہے) تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا لوگ بھول گئے (یعنی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی) یا گمراہ ہو گئے میں نے خود سنا ہے ان سے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی ہے کہ وہ اس جگہ میں لبیک پکارتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مضبوط علمی انداز سامنے آتا ہے۔ وہ مزدلفہ سے لوٹے تو انہوں نے تلبیہ کہا۔ کچھ لوگوں نے اسے عجیب سمجھا، گویا یہ کسی دیہاتی کا کام ہو۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ کیا لوگ بھول گئے یا گمراہ ہو گئے؟ پھر بتایا کہ میں نے خود اس ذات کو اسی جگہ لبیک اللہم لبیک کہتے سنا جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ اس روایت کا پیغام یہ ہے کہ جب کسی ثابت عمل کو لوگ بھولنے لگیں تو اہل علم اسے نرمی مگر وضاحت کے ساتھ یاد دلاتے ہیں۔ حج میں تلبیہ کا یہ مقام نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے وابستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ثابت شدہ سنت کو لوگوں کے تعجب کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاتا۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تلبیہ کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت کیا۔
- مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ کا ذکر روایت میں موجود ہے۔
- دینی عمل پر اعتراض ہو تو دلیل کے ساتھ بات واضح کی جاتی ہے۔
