صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۱ - مزدلفہ میں لبیک کی صدا
مزدلفہ میں تلبیہ: لبیک اللہم لبیک
صحیح مسلم : ۳۰۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ : سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " .
عبداللہ روایت:
عبدالرحمٰن نے کہا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہم سے مزدلفہ میں کہتے تھے کہ میں نے سنا ہے ان کو جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی ہے کہ وہ اس مقام میں لبیک پکارتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں مزدلفہ کے مقام پر تلبیہ کا ذکر ہے۔ عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے کہ میں نے اس ہستی کو سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی، وہ اسی مقام پر لبیک اللہم لبیک کہا کرتے تھے۔ یہاں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انداز بھی قابل توجہ ہے۔ وہ اپنی بات کو نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے جوڑتے ہیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ کوئی ذاتی رائے نہیں بلکہ دیکھا اور سنا ہوا عمل ہے۔ اس روایت سے حاجی کے لیے مزدلفہ میں تلبیہ کی اہمیت اور سنت کی پیروی کا جذبہ سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدلفہ میں تلبیہ کہنے کا عمل نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے۔
- صحابی نے اپنی بات کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سنے ہوئے عمل سے ثابت کیا۔
- حج کے مقامات پر ذکر اور تلبیہ کی خاص اہمیت ہے۔
- دینی عمل میں ذاتی انداز کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی اصل ہے۔
