صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۶ - عرفہ کی صبح تکبیر اور تہلیل
عرفہ کی صبح: تکبیر اور تہلیل کا ذکر
صحیح مسلم : ۳۰۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹۶
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ " ، قَالَ : قُلْتُ : وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ : مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ؟ .
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے عرفہ کی صبح کو سو کوئی ہم میں سے «الله اكبر» کہتا تھا کوئی «لَا إِلَـٰہَ إِلَّا اللَّـہُ» اور ہم ان میں تھے جو «الله اكبر» کہتے تھے میں نے ان سے کہا کہ بڑے تعجب کی بات ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے دیکھا۔ (سبحان اللہ! سنت سے محبت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل دریافت کیوں نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عرفہ کی صبح کے ذکر کا بیان ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے، ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تھا اور کوئی لا الہ الا اللہ پڑھتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تکبیر کہتے تھے۔ روایت کے آخر میں سوال کرنے والے نے تعجب کیا کہ تم نے یہ کیوں نہ پوچھا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خود کیا کر رہے تھے۔ اس جملے میں سنت معلوم کرنے کا شوق نظر آتا ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ حج کے موقع پر تکبیر اور تہلیل دونوں کا ذکر موجود تھا، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو جاننے کی طلب بھی اہل علم کے دل میں بہت مضبوط تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفہ کی صبح تکبیر اور تہلیل دونوں کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حج کے سفر میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل کو جاننے کا شوق دینی سمجھ کی علامت ہے۔
- متن میں جتنا ذکر ہے، اسی حد تک بات بیان کرنی چاہیے۔
