صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۵ - عرفات جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر
عرفات کے سفر میں تلبیہ اور تکبیر
صحیح مسلم : ۳۰۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹۵
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ ، مِنَّا الْمُلَبِّي ، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب ہم صبح کو چلے منیٰ سے عرفات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو کوئی ہم میں سے لبیک پکارتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عرفات جاتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ذکر کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف صبح روانہ ہوئے۔ ہم میں سے کوئی تلبیہ پڑھتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔ اس روایت میں اختلاف یا جھگڑے کا ذکر نہیں، بلکہ ایک ہی سفر میں دو طرح کے ذکر کا بیان ہے۔ حج میں تلبیہ بھی اللہ کی پکار پر حاضر ہونے کا اعلان ہے، اور تکبیر بھی اللہ کی بڑائی کا اظہار ہے۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس موقع پر صحابہ کے درمیان ذکر کے انداز میں وسعت پائی جاتی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منیٰ سے عرفات جاتے ہوئے صحابہ میں تلبیہ اور تکبیر دونوں کا ذکر آیا ہے۔
- حج کے سفر میں اللہ کا ذکر نمایاں عمل ہے۔
- روایت میں اس اختلاف کو جھگڑے کی صورت میں بیان نہیں کیا گیا۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سفر میں ذکر کرتے رہے۔
