صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۴ - صحابہ کے ساتھ لبیک
لبیک کی صدا: صحابی نے پڑھا، ساتھیوں نے ساتھ دیا
صحیح مسلم : ۳۰۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۹۴
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا : سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ : سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا ، يَقُولُ : " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ " ، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ .
عبداللہ بن اسود روایت:
میں نے اس ذات سے سنا جس پر یہاں سورۃ البقرہ نازل ہوئی آپ فرما رہے تھے «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ» پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی تلبیہ پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۹۴ کا خلاصہ
اس روایت میں تلبیہ کا ایک خوب صورت عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ عبدالرحمٰن اور اسود رحمہما اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مزدلفہ میں کہتے سنا کہ میں نے اس ذات کو، جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی، اسی جگہ لبیک اللہم لبیک کہتے سنا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خود بھی تلبیہ پڑھا اور ساتھیوں نے ان کے ساتھ پڑھا۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنت کو صرف بیان نہیں کرتے تھے بلکہ عمل کر کے دکھاتے بھی تھے۔ حج کے موقع پر لبیک کی آواز اللہ کے حکم پر حاضر ہونے کا اظہار ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنت کو بیان کرنے کے ساتھ عمل کر کے دکھانا بھی اہم ہے۔
- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلى الله عليه وسلم کا تلبیہ اسی مقام سے نقل کیا۔
- ساتھیوں نے تلبیہ میں ان کا ساتھ دیا، جس سے عملی پیروی ظاہر ہوئی۔
- حج کے مقامات پر ذکر کی آواز دینی یاد دہانی بنتی ہے۔
