صحیح مسلم حدیث ۳۱۰۰ - نماز کی جگہ آگے ہے
نماز کی جگہ آگے ہے: مزدلفہ کی طرف رہنمائی
صحیح مسلم : ۳۱۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۰۰
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، فَقُلْتُ : أَتُصَلِّي ، فَقَالَ : " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ " .
اسامہ بن زید روایت:
لوٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اور بعض گھاٹیوں میں اترے حاجت کے واسطے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا یعنی وضو کے وقت اور کہا کہ آپ نماز پڑھیں گے؟ تو فرمایا: ”نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔“ (یعنی مزدلفہ اور باقی تفصیل اس حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ کی اوپر گزر چکی ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۰۰ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت کا مختصر حصہ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عرفات سے واپس ہوئے اور راستے کی ایک گھاٹی میں حاجت کے لیے اترے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی ڈالا اور پوچھا کہ کیا آپ نماز پڑھیں گے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نماز کی جگہ تمہارے آگے ہے۔ اس سے مراد مزدلفہ کا مقام ہے، جیسا کہ اسی واقعے کی تفصیل دوسری روایت میں آ چکی ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حج کے سفر میں نماز کا وقت اور مقام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رہنمائی کے مطابق رکھا گیا۔ اس میں جلدی کے بجائے مقرر ترتیب پر عمل دکھائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے راستے میں نماز نہ پڑھ کر مزدلفہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
- سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے وضو میں خدمت کی اور نماز کے بارے میں پوچھا۔
- حج کے سفر میں عبادت کی ترتیب نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے معلوم ہوتی ہے۔
- مختصر روایت کو اسی واقعے کی تفصیل کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
