صحیح مسلم حدیث ۳۱۰۳ - نماز تمہارے آگے ہے
عرفات سے واپسی اور نماز آگے ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۱۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۰۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " .
وہی مضمون ہے جو اوپر کئی بار گزرا اس میں یہ ہے کہ اس گھاٹی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے جہاں اُمرا اترتے تھے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفات سے واپسی کے سفر کا ایک مختصر مگر اہم حصہ بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا اترتے تھے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، حاجت پوری فرمائی، پھر پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے بارے میں عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز تمہارے آگے ہے۔ اس حدیث میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ سفر حج میں ہر عمل اپنے وقت اور مقام کے ساتھ کیا گیا۔ یہاں نماز فوراً نہیں پڑھی گئی، بلکہ آگے کے مقام کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ یہ روایت حج کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکون، ترتیب اور واضح رہنمائی کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر عمل ترتیب کے ساتھ کیا۔
- نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر اور صاف جواب دیا۔
- اس روایت میں ہلکے وضو کا ذکر ہے، تفصیلی نماز کا ذکر نہیں۔
