حدیث ۳۱۰۲
صحیح مسلم : ۳۱۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۰۲
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ : جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ ، وَمَا قَالَ : أَهَرَاقَ الْمَاءَ ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى ، ثُمَّ حَلُّوا : قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ ؟ قَالَ : رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ : وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ .
کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جب تم سوار ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تو کیا کیا عرفہ کی شام کو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس گھاٹی تک آئے جہاں لوگ اونٹوں کو بٹھاتے ہیں نماز مغرب کے لیے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو بٹھایا اور اترے اور پیشاب کیا اور پانی دینے کا ذکر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نہیں کیا پھر وضو کا پانی مانگا اور ہلکا سا وضو کیا پورا نہیں (یعنی ایک ایک بار اعضاء دھوئے) اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! نماز، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز تمہارے آگے ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے اور مغرب کی تکبیر ہوئی اور لوگوں نے اونٹ بٹھائے اور کھولے نہیں یہاں تک کہ عشاء کی تکبیر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء بھی پڑھی پھر اونٹ کھول دئیے، میں نے کہا کہ پھر تم نے صبح کو کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ پھر سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار ہوئے اور میں قریش کی راہ سے پیدل چلا۔
