صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۶ - ضعیفوں کو مزدلفہ سے رات کو بھیجنا
ضعیفوں کی مزدلفہ سے روانگی: ابن عباسؓ کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۱۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۲۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ ، أَوَ قَالَ : فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ " .
عبیداللہ روایت:
میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ فرماتے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کے ساتھ روانہ کر دیا یا ہوں کہا کہ ضعیفوں کے ہمراہ روانہ کر دیا مزدلفہ سے رات کو۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات کے وقت سامان کے ساتھ روانہ کیا، یا راوی کے بیان کے مطابق ضعیفوں کے ساتھ روانہ کیا۔ اس روایت کا مرکزی موضوع ضعیفوں کی رخصت اور مزدلفہ سے رات کو روانگی ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجنے کے ساتھ ہوا۔ اس میں رمی کا وقت یا فجر کی نماز کی جگہ بیان نہیں ہوئی، اس لیے توضیح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔ حج کے مسائل میں یہ حدیث آسانی اور رعایت کے باب میں دیکھی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عباسؓ کو مزدلفہ سے رات میں روانہ کیا گیا۔
- روایت میں سامان یا ضعیفوں کے ساتھ بھیجنے کا ذکر ہے۔
- اس حدیث میں رمی یا فجر کی تفصیل بیان نہیں ہوئی۔
