صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۷ - اہل خانہ کے ضعیف لوگوں کی رخصت

اہل خانہ کے ضعیف افراد کو پہلے بھیجنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۲۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .

ابن عباس روایت:

میں ان میں تھا جن کو آگے روانہ کر دیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے ضعیفوں میں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۱۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مختصر انداز میں بتایا کہ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے ضعیف لوگوں میں پہلے روانہ کیا تھا۔ اس کا مرکزی موضوع ضعیفوں کی رخصت اور مزدلفہ سے پہلے روانگی ہے۔ حدیث میں خاص طور پر اہل خانہ کے ضعیف افراد کا ذکر آیا ہے، اس لیے بات کو عام دعووں میں پھیلانے کے بجائے اسی بیان تک رکھا جائے گا۔ حج کے سفر میں کمزور لوگوں کے لیے آسانی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت، اور مزدلفہ سے روانگی جیسے موضوعات یہاں فطری طور پر ملتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عباسؓ نبی صلى الله عليه وسلم کے بھیجے ہوئے ضعیف افراد میں شامل تھے۔
  • حدیث میں اہل خانہ کے ضعیف لوگوں کا خاص ذکر ہے۔
  • حج کے عمل میں اجازت کے ساتھ پہلے روانہ ہونا ثابت ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں