صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۰ - حجۃ الوداع میں حلق والوں کے لیے دعا
حجۃ الوداع میں حلق اور تقصیر والوں کے لیے دعا
صحیح مسلم : ۳۱۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً " ، وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ : فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
یحییٰ روایت:
یحییٰ نے اپنی دادی سے روایت کی کہ انہوں نے حجتہ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا کی اور کتروانے والوں کے لیے ایک بار اور وکیع کی روایت میں حجتہ الوداع کا لفظ نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں یحییٰ کی دادی کا بیان ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی اور بال کترانے والوں کے لیے ایک بار۔ روایت کے آخر میں یہ بھی بتایا گیا کہ وکیع کی روایت میں حجۃ الوداع کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متن کو جتنا بیان کیا گیا ہے، اتنا ہی نقل کیا جائے۔ حلق اور تقصیر کی حدیث میں یہاں عدد صاف ہے: حلق والوں کے لیے تین بار دعا، تقصیر والوں کے لیے ایک بار۔ یہ بات عام قاری کو حج یا عمرہ کے بالوں سے متعلق سنت سمجھنے میں مدد دیتی ہے، مگر اس سے باہر کوئی اضافی دعویٰ شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلق والوں کے لیے تین بار دعا کا ذکر ہے۔
- تقصیر والوں کے لیے ایک بار دعا کا ذکر ہے۔
- روایت میں حجۃ الوداع کا لفظ ایک طریق میں آیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں جو فرق آیا ہے اسے احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
