صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۳ - دائیں جانب سے حلق اور بالوں کی تقسیم
دائیں جانب سے حلق اور نبی صلى الله عليه وسلم کے بال مبارک کی تقسیم
صحیح مسلم : ۳۱۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵۳
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ : " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ " ، قَالَ : " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ " ، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ : " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ " ، ثُمَّ قَالَ : " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ " ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ .
ابوبکر بن ابوشیبہ اور ابن نمیر اور ابوکریب روایت:
روایت کی ہم سے ابوبکر بن ابوشیبہ اور ابن نمیر اور ابوکریب نے، تینوں نے کہا کہ روایت کہ ہم سے حفص بن غیاث نے۔ انہوں نے ہشام سے اسی اسناد سے اب سنو کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا حجام سے ”یہاں۔“ اور اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے داہنی طرف اس طرح اور بانٹ دیے بال اپنے ان لوگوں کو جو قریب تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔کہا راوی نے اشارہ کیا حجام کو بائیں طرف کے سر کا تو اس طرف کے بال مونڈے تو ام سلیم کو عطا فرماے اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ داہنی طرف سے شروع کیا اور ایک ایک دو دو بال بانٹ دیے لوگوں کو پھر بائیں طرف اشارہ کیا اور ان کو بھی ایسا ہی کیا یعنی منڈانا پھر فرمایا کہ ”یہاں ابوطلحہ ہیں۔“ سو ان کو دے دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کی مزید تفصیل بیان کرتی ہے۔ ایک طریق میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام کو دائیں جانب اشارہ فرمایا، پھر اس طرف کے بال قریب موجود لوگوں میں تقسیم کیے گئے۔ پھر بائیں جانب اشارہ کیا گیا، وہ بال مونڈے گئے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا کیے گئے۔ ایک اور طریق میں ہے کہ دائیں جانب کے بال ایک ایک دو دو کر کے لوگوں میں تقسیم کیے گئے، پھر بائیں جانب بھی ایسا ہی کیا گیا، اور آخر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ حلق میں دائیں جانب سے ابتدا ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال صحابہ میں دیے گئے۔ مختلف الفاظ کو ملاتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلق میں دائیں جانب سے ابتدا کا ذکر ہے۔
- دائیں جانب کے بال قریب لوگوں میں تقسیم کیے گئے۔
- بائیں جانب کے بالوں کے بارے میں ام سلیم اور ابوطلحہ کا ذکر آیا۔
- روایت کے مختلف الفاظ کو احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔
