صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۵ - ابوطلحہ کو بال دے کر تقسیم کا حکم
نبی صلى الله عليه وسلم کے بال مبارک ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دینا
صحیح مسلم : ۳۱۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۵۵
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ ، فَقَالَ : احْلِقْ فَحَلَقَهُ ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ : اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ " .
انس بن مالک روایت:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور قربانی کر لی اور سر منڈوایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں جانب آگے کی اس مونڈ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ انصاری کو بلایا اور ان کو وہ بال دے دیے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بائیں جانب آگے کی کہ ”اس کو مونڈو۔“ جب وہ مونڈ دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ کو وہ بال دے دیے کہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، قربانی کی، اور سر منڈوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب کا حصہ حجام کو دیا، وہ مونڈا گیا، پھر ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ بال انہیں دے دیے۔ پھر بائیں جانب کا حصہ مونڈنے کو فرمایا، وہ بھی مونڈا گیا، اور وہ بال بھی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے کر فرمایا کہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔ اس روایت کا اصل موضوع بال مبارک کی تقسیم ہے، لیکن اس سے پہلے رمی، قربانی اور حلق کی ترتیب بھی متن میں موجود ہے۔ اس لیے وضاحت انہی الفاظ کے اندر رہ کر کی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمی، قربانی اور حلق تینوں کا ذکر ایک ترتیب سے آیا۔
- دائیں جانب کے بال ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دیے گئے۔
- بائیں جانب کے بال بھی انہیں دے کر تقسیم کا حکم فرمایا گیا۔
- حدیث میں بالوں کی تقسیم کا واقعہ صاف طور پر بیان ہے۔
