صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۴ - ذبح، حلق اور رمی میں لا حرج
ذبح، حلق اور رمی کی تقدیم و تاخیر پر لا حرج
صحیح مسلم : ۳۱۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : فِي الذَّبْحِ ، وَالْحَلْقِ ، وَالرَّمْيِ ، وَالتَّقْدِيمِ ، وَالتَّأْخِيرِ ، فقَالَ : " لَا حَرَجَ " .
ابن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، حلق رمی کے آگے پیچھے ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی، حلق اور رمی کے آگے پیچھے ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ یہ الفاظ مختصر ہیں، مگر حج کے دن پیش آنے والی عملی الجھن کو بہت آسان کر دیتے ہیں۔ حاجی کبھی نحر کے دن کے اعمال میں ترتیب کے بارے میں پریشان ہو جاتا ہے، خاص طور پر رمی، قربانی اور حلق کے معاملے میں۔ اس حدیث میں انہی اعمال کا ذکر ہے، اس لیے اس کی تشریح بھی انہی الفاظ کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ یہاں نہ لمبی بحث ہے نہ مشکل عبارت، بلکہ ایک سادہ جواب ہے کہ جس معاملے کے بارے میں پوچھا گیا، اس میں لا حرج فرمایا گیا۔ اسی وجہ سے یہ روایت حج کی ترتیب، ذبح سے پہلے رمی، اور حلق کی حدیث کے طور پر تلاش ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں ذبح، حلق اور رمی کے آگے پیچھے ہونے کا ذکر صاف آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والوں کے لیے آسان جواب دیا۔
- حج کے عمل میں الجھن ہو تو اصل نص کو سامنے رکھ کر بات کی جائے۔
