صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۸ - تحصیب اور محصب میں نماز
تحصیب کیا ہے؟ محصب میں اترنے اور ظہر پڑھنے کی روایت
صحیح مسلم : ۳۱۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۸
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً ، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ " ، قَالَ نَافِعٌ : قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ .
ابن عمر روایت:
نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کی کہ وہ محصب میں اترنے کو سنت جانتے تھے اور ظہر وہیں پڑھتے تھے نحر کے دن کی۔ نافع نے کہا کہ محصب میں اترے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اترے ہیں خلیفہ آپ کے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۸ کا خلاصہ
اس روایت میں نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تحصیب، یعنی محصب میں اترنے کو سنت سمجھتے تھے، اور یوم النفر کی ظہر وہیں حصبہ میں پڑھتے تھے۔ نافع نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں اترے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء بھی اترے۔ اس حدیث کا اصل موضوع تحصیب اور محصب ہے۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو حج کے بعد محصب میں قیام، ابطح میں نماز، یا التحصیب سنت ہے؟ جیسے سوالات تلاش کرتے ہیں۔ متن میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فہم اور نافع کا بیان دونوں موجود ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس روایت کے اندر محصب میں اترنے اور وہاں نماز پڑھنے کا ذکر ہے، لیکن اس سے باہر کے تفصیلی فقہی اختلاف کو اس متن میں شامل نہیں کیا جا رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں اترنے کو سنت سمجھتے تھے۔
- روایت میں محصب میں ظہر پڑھنے کا عمل ذکر ہوا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء کے عمل کا بھی ذکر آتا ہے۔
- حج کے مقامات کے بارے میں صحابہ کے بیان کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہیے۔
