صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۹ - محصب میں اترنا واجب نہیں
محصب میں قیام واجب نہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت
صحیح مسلم : ۳۱۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۶۹
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ " ،
عائشہ روایت:
محصب میں اترنا کچھ واجب نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو صرف اس لیے وہاں اترے ہیں کہ وہاں سے نکلنا آسان تھا جب مکہ سے آپ نکلے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بہت صاف انداز میں فرمایا کہ محصب میں اترنا واجب نہیں۔ انہوں نے وجہ بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لیے اترے تھے کہ مکہ سے نکلتے وقت وہاں سے روانہ ہونا آسان تھا۔ یہ روایت محصب، ابطح، نزول ابطح، اور حج کے بعد قیام کے موضوع پر ایک اہم زاویہ دیتی ہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ ہر وہ جگہ جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ٹھہرے، متن کے مطابق لازمی عمل نہیں بنائی گئی، بلکہ یہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آسانی کی وجہ بتائی۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے ہمیں اسی بیان تک رہنا چاہیے: محصب میں قیام کو انہوں نے واجب نہیں کہا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اترنے کی وجہ آسان روانگی بتائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے محصب میں قیام کو واجب نہیں کہا۔
- روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں اترنے کی وجہ آسان روانگی بتائی گئی ہے۔
- حج کے عمل میں ہر مقام کی نوعیت کو نص کے الفاظ سے سمجھنا چاہیے۔
