صحیح مسلم حدیث ۳۱۷۰ - ابطح میں قیام کی دوسری سند
نزول ابطح: ایک ہی مضمون کی دوسری روایات
صحیح مسلم : ۳۱۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۷۰
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّاد يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحدثناه أَبُو كَامِلٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سندوں سے بیان کرتی ہے۔ اصل پیغام وہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق محصب یا ابطح میں اترنا ایسا لازم عمل نہیں جسے ہر حاجی پر واجب کہا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں اترنا اس لیے تھا کہ مکہ سے نکلنا آسان ہو۔ اس روایت کی اہمیت یہ ہے کہ ایک ہی بات مختلف راویوں کے راستے سے آئی، جس سے مضمون زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ تلاش کے لحاظ سے اسے نزول ابطح، محصب میں قیام، ابطح سنت ہے یا نہیں، اور حج کے بعد مکہ سے روانگی جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ متن میں چونکہ صرف مذکورہ بالا حدیث کا حوالہ ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی معنی کے گرد ہے، نہ کہ کسی نئے واقعے یا اضافی حکم کے گرد۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری سند سے آنا ایک ہی مضمون کو مزید واضح کرتا ہے۔
- محصب میں قیام کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت اصل بنیاد ہے۔
- کسی روایت کے مختصر متن میں نیا حکم شامل نہیں کرنا چاہیے۔
