صحیح مسلم حدیث ۳۱۷۱ - ابطح پر صحابہ کا مختلف عمل
ابطح میں اترنے پر صحابہ کا فہم: عمل اور وضاحت
صحیح مسلم : ۳۱۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۱۷۱
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَابْنَ عُمَرَ : كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَح ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ ، وَقَالَتْ : " إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ " .
سالم روایت:
ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ابطح میں اترے تھے۔ زہری نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ وہ نہیں وہاں اترتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو وہاں اترتے تھے تو اس لیے کہ وہاں سے روانہ ہو جانا مکہ سے آسان تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۱۷۱ کا خلاصہ
اس روایت میں سالم بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر، عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم ابطح میں اترتے تھے۔ پھر زہری نے عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل کیا کہ وہ وہاں نہیں اترتی تھیں، اور فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس لیے اترے کہ وہ مکہ سے نکلنے کے لیے آسان جگہ تھی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع محصب یا ابطح میں قیام ہے، مگر یہاں ایک اہم بات سامنے آتی ہے: صحابہ کے عمل میں فرق کا ذکر خود روایت میں ہے۔ ایک طرف بعض حضرات کا وہاں اترنا بیان ہوا، دوسری طرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت آئی۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے توازن ضروری ہے۔ یہ روایت محصب کی سنت، ابطح میں قیام، اور نزول ابطح کے مقصد جیسے سرچ الفاظ کے لیے اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں بعض صحابہ کے ابطح میں اترنے کا ذکر ہے۔
- سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں نہیں اترتی تھیں اور وجہ بھی بتاتی تھیں۔
- ایک مسئلے میں صحابہ کے مختلف فہم کو ادب کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- متن کے دونوں پہلو سامنے رکھنا علمی دیانت ہے۔
