صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۱ - حائضہ عورت کا طواف وداع
حائضہ عورت کا طواف وداع: حج میں آسانی کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۲۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ ، فقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَضْحَكُ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ .
طاؤس روایت:
میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ حائضہ عورت نکلنے سے پیشتر گویا حیض کے پہلے طواف رخصت کرے، سو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نہیں مانتے ہو تو فلانی انصاری کی بی بی سے پوچھو کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا حکم دیا ہے یا نہیں۔ سو زید بن ثابت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لوٹ کر آئے ہنستے ہوئے اور بولے: میں جانتا ہوں کہ آپ ہی سچ کہتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حائضہ عورت کا طواف وداع ہے۔ روایت میں طاؤس بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک مسئلے میں فتویٰ دے رہے تھے کہ حائضہ عورت روانگی سے پہلے آخری طواف کرے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر ایک انصاری خاتون سے پوچھنے کا کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں حکم دیا تھا۔ پھر زید بن ثابت رضی اللہ عنہ واپس آئے اور خوش دلی سے مان لیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما درست کہہ رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی مسئلے میں اصل بات دلیل ہے، اور جب صحیح بات سامنے آ جائے تو اسے قبول کرنا اہل علم کا طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے مسائل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو اصل ماننا چاہیے۔
- دینی بات میں دلیل ملنے پر اپنی رائے سے رجوع کرنا اچھی بات ہے۔
- حائضہ عورت کے طواف وداع کے مسئلے میں صحابہ کرام دلیل سے بات کرتے تھے۔
