صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۳ - طواف افاضہ کے بعد حیض کا حکم
طواف افاضہ کے بعد حیض کا حکم آسان لفظوں میں
صحیح مسلم : ۳۲۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۲۳
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حدثنا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَت : طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا ، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ،
عائشہ روایت:
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں۔ باقی حدیث گزشتہ کی طرح ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۲۳ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع میں طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہوئیں۔ اصل بات یہی ہے کہ حیض طواف افاضہ کے بعد آیا تھا، پہلے نہیں۔ اسی وجہ سے معاملہ روکنے والا نہ رہا۔ اس حدیث میں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ روایت کے الفاظ کبھی مختصر آتے ہیں، مگر اصل واقعہ وہی رہتا ہے۔ طواف افاضہ حج کا اہم عمل ہے، اور اس حدیث میں اسی عمل کے بعد پیش آنے والی حالت کا ذکر ہے۔ اس لیے حائضہ عورت کا حج، طواف افاضہ، اور کوچ کا مسئلہ اسی ترتیب کے ساتھ سمجھنا چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حکم سمجھنے میں واقعے کی ترتیب بہت اہم ہے۔
- یہ روایت طواف افاضہ کے بعد حیض آنے کی صورت بیان کرتی ہے۔
- ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے مختصر یا مفصل الفاظ میں آ سکتا ہے۔
