صحیح مسلم حدیث ۳۲۸ - روایت کی دوسری سند

شرک بڑا ظلم ہے: اسی روایت کی سندی تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۸

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنا َ أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ كُلُّهُمْ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ .

‏‏‏‏ اعمش سے ان تین سندوں سے یہ روایت مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۸ کا خلاصہ

یہ روایت الگ نیا واقعہ بیان نہیں کرتی، بلکہ اعمش سے اسی سند کے ساتھ پچھلی روایت کے نقل ہونے کا ذکر کرتی ہے۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ یہ روایت تین سندوں سے مروی ہے۔ اس کا تعلق اسی مضمون سے ہے جس میں ایمان کے ساتھ ظلم والی آیت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فکر ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اس جگہ ظلم سے مراد عام گناہ نہیں بلکہ شرک ہے۔ اس لیے اس حدیث کا موضوع سندی روایت، ایمان اور شرک سے بچنے کی بات ہے۔ عام قاری کے لیے یہاں اصل فائدہ یہ ہے کہ حدیث کا علم صرف مضمون تک محدود نہیں، بلکہ روایت کے طریقوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ دین کی بات ذمہ داری کے ساتھ نقل کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلے مضمون کی سندی تائید کے طور پر آئی ہے۔
  • حدیث کے علم میں سند کا ذکر بھی اہم علمی حصہ ہے۔
  • ایمان کے ساتھ شرک کو ملانا بہت سنگین بات ہے۔
  • دین کی بات نقل کرتے وقت راویوں اور سند کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں