صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۳ - حرم مکہ کے الفاظ کا فرق
حرم مکہ کی روایت میں لفظی فرق اور لقطہ کا ذکر
صحیح مسلم : ۳۳۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۰۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ : الْقَتْلَ ، وَقَالَ : لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا .
چند الفاظ کے فرق سے مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث اصل میں پچھلی روایت ہی کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں چند الفاظ کے فرق کا ذکر ہے۔ متن میں بتایا گیا کہ یہاں “جس دن آسمان و زمین بنائے” کا جملہ ذکر نہیں ہوا، اور “قتال” کے بجائے “قتل” کا لفظ آیا۔ اسی طرح گری پڑی چیز کے بارے میں یہ لفظ آیا کہ اس کا لقطہ وہی اٹھائے جو اس کا اعلان کرے۔ اس سے اس حدیث کا بنیادی موضوع حرم مکہ، مکہ کی حرمت، اور لقطہ مکہ ہے۔ یہاں کوئی الگ واقعہ نہیں بتایا گیا، بلکہ الفاظ کے فرق کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اس طرح قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی حدیث کی روایت میں کبھی معمولی لفظی فرق بھی نقل کیا جاتا ہے، مگر اصل مضمون وہی رہتا ہے جو متن میں بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی سابقہ مضمون کو چند لفظی فرق کے ساتھ نقل کرتی ہے۔
- اس متن میں قتال کے بجائے قتل کا لفظ آیا ہے۔
- مکہ کے لقطہ کے بارے میں اعلان کرنے والے کا ذکر کیا گیا ہے۔
