حدیث ۳۳۰۲
صحیح مسلم : ۳۳۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۰۲
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ : فَتْحِ مَكَّةَ : " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ : فَتْحِ مَكَّةَ : إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي ، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا " ، فقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ ، فقَالَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " ،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن مکہ فتح ہوا کہ ”آج سے مکہ کی ہجرت نہیں رہی مگر جہاد اور نیت باقی ہے اور تم کو حکام جہاد کے لئے بلائیں تو نکلو اور چلو۔“ اور فرمایا: ”کہ یہ شہر ایسا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کو ادب کی جگہ قرار دیا ہے جس دن سے آسمان و زمین بنایا ہے غرض وہ اللہ کے مقرر کرنے سے حکمت و ادب کی جگہ ٹھہرایا گیا ہے، قیامت تک اور کسی کو اس میں قتال روا نہیں ہوا مجھ سے پیشتر اور مجھے بھی ایک دن کی صرف ایک گھڑی اجازت ہوئی تھی (یعنی لڑائی کی) اور وہ پھر ویسا ہی حرام ہو گیا، اللہ تعالیٰ کے حرام کرنے سے قیامت تک کہ نہ اس کا کانٹا اکھاڑا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے مگر وہ اٹھائے جو اس کو پہنچوائے (کہ جس کی ہو اس کو دے دے) اور نہ اس کی ہری گھاس اکھاڑی جائے۔“ سو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! مگر اذخر (یعنی اس کی اجازت دیجئیے) کہ وہ سناروں، لوہاروں کے کام آتی ہے اور اس سے گھر چھائے جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر اذخر۔“ یعنی اس کے توڑنے کی اجازت ہے۔
