صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۴ - مکہ کی حرمت اور خون ریزی سے منع

مکہ کی حرمت: خون بہانا اور درخت کاٹنا حلال نہیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۰۴

حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ : ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا ، قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي ، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا ، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً ، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ، فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " ، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ : مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو ؟ قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا ، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ .

ابوشریح عدوی روایت:

سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید سے کہا کہ جس وقت وہ لشکروں کو روانہ کرتا تھا مکہ کے اوپر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے قتل کو کہ اجازت دو مجھے اے امیر کہ میں ایک حدیث بیان کروں کہ جو خطبہ کے طور سے کھڑے ہو کر فرمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دن مکہ کی فتح کے اور میرے کانوں نے سنی اور دل نے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیان فرمائی، پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: ”مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے اور لوگوں نے حرام نہیں کیا سو کسی شخص کو روا نہیں جو اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو کہ اس میں کسی کا خون بہائے اور نہ یہ حلال ہے کہ اس میں درخت کاٹے پھر اگر میرے قتال کی سند سے قتال کی اجازت کوئی شخص نکالے تو اس سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اجازت دی اس اور تم کو اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن میں ایک گھڑی کے لئے اجازت دی۔ اور پھر اس کی حرمت آج ویسے ہی لوٹ آئی جیسے کل تھی۔ اور ضروری ہے کہ جو حاضر ہو غائبوں کو یہ حدیث پہنچا دے۔“لوگوں نے ابوشریح سے کہا پھر عمرو نے آپ کو کیا جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نے کہا کہ اے ابوشریح! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں (ھائے ظالم) حرم پناہ نہیں دیتا نافرمان کو (یہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کہا۔ معاذ اللہ من ذلک) اور نہ اس کو جو خون کر کے بھاگا ہو اور نہ اس کو جو چوری اور فساد کر کے بھاگا ہو۔

صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے مکہ کی حرمت والی حدیث عمرو بن سعید کے سامنے بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انہوں نے اپنے کانوں سے سنی، دل نے یاد رکھی، اور آنکھوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھا جب آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ فرمایا۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مکہ کو لوگوں نے نہیں بلکہ اللہ نے حرام کیا ہے۔ اس لیے جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے مکہ میں خون بہانا یا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی فتح مکہ کے موقع پر نبی صلى الله عليه وسلم کے قتال کو دلیل بنائے تو جواب یہ ہے کہ وہ اجازت صرف رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ایک گھڑی کے لیے دی گئی تھی، عام لوگوں کو نہیں۔ پھر مکہ کی حرمت پہلے کی طرح واپس آ گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مکہ کی حرمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لوگوں کی بنائی ہوئی نہیں۔
  • حدیث کے مطابق مکہ میں خون بہانا اور درخت کاٹنا جائز نہیں۔
  • فتح مکہ کی وقتی اجازت کو عام اجازت نہیں بنایا جا سکتا۔
  • حاضر شخص کو غائب تک یہ بات پہنچانے کا حکم دیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں