صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۵ - فتح مکہ کا خطبہ اور حرم کا ادب

فتح مکہ کا خطبہ: حرم مکہ، قصاص اور ابوشاہ کی درخواست

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۰۵

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَامَ فِي النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي ، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى ، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ " ، فقَالَ الْعَبَّاسُ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " ، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فقَالَ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ " ، قَالَ الْوَلِيدُ : فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ : مَا قَوْلُهُ : اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابوہریرہ روایت:

جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح دی اپنے رسول کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا: ”اللہ پاک نے اصحاب فیل کو مکہ سے روک دیا اور اپنے رسول کو مؤمنوں کو اس کا حاکم فرمایا اور اس میں لڑنا کسی کو حلال نہیں ہوا مجھ سے پہلے اور مجھے بھی ایک گھڑی کی اجازت ملی دن سے اور اب کبھی حلال نہ ہو گا میرے بعد کسی کو، پھر اس کا شکار بھگایا نہ جائے، اس کا کانٹا توڑا نہ جائے، اس کی گری پڑی چیز اٹھائی نہ جائے مگر وہ شخص اٹھائے جو بتاتا پھرے کہ جس کی ہو اسے دے دے اور جس کا کوئی شخص مارا گیا اس کو دو باتوں کا اختیار ہے، خواہ فدیہ لے لے یعنی خون بہا لے خواہ قاتل کو قصاص میں مروا ڈالے۔“سو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ مگر اذخر یا رسول اللہ! کہ ہم اس کو اپنی قبروں میں ڈالتے ہیں اور گھروں کو اس سے چھاتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”کہ خیر اذخر توڑ لو۔“ (گھاس کو اذخر کہا) پھر ابوشاہ ایک شخص یمن کا اٹھا اور اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ دو ابوشاہ کو۔“ ولید نے کہا کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب؟ یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھ دو۔ انہوں نے کہا یہی خطبہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یعنی اس کو ابوشاہ نے لکھوا لیا کہ بڑے نفع کی بات تھی)۔

صحیح مسلم حدیث ۳۳۰۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا خطبہ بیان ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ نے اصحاب فیل کو مکہ سے روک دیا اور اپنے رسول اور مؤمنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ پھر حرم مکہ کی حرمت کا ذکر آیا کہ یہ آپ صلى الله عليه وسلم سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا، آپ صلى الله عليه وسلم کو صرف دن کی ایک گھڑی اجازت ملی، اور آپ صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا۔ حدیث میں شکار کو نہ بھگانے، کانٹا نہ توڑنے، گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والے کے لیے اٹھانے، اور مقتول کے وارث کے لیے دیت یا قصاص کے اختیار کا بیان ہے۔ عباس رضی اللہ عنہ کے کہنے پر اذخر کی اجازت دی گئی۔ ابوشاہ نے خطبہ لکھوانے کی درخواست کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے لکھ دینے کا حکم فرمایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فتح مکہ کے خطبے میں حرم مکہ کی حرمت صاف بیان ہوئی۔
  • گری پڑی چیز اٹھانے کی اجازت صرف اعلان کرنے والے کے لیے ذکر ہوئی۔
  • مقتول کے وارث کے لیے دیت یا قصاص کا اختیار بیان کیا گیا۔
  • ابوشاہ کی درخواست پر خطبہ لکھنے کی اجازت دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں