صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۱ - اہل مدینہ سے برائی کا انجام

اہل مدینہ سے برائی کی حدیث اور مدینہ کی حرمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۱

حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .

ابووقاص روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”جو کوئی اہل مدینہ سے برائی کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع مدینہ کی حرمت اور اہل مدینہ کا احترام ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اس میں مدینہ والوں کے خلاف بدنیتی، نقصان پہنچانے کی خواہش اور برائی کے ارادے پر سخت تنبیہ ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر ہے، اس لیے اہل مدینہ کے بارے میں دل میں شر رکھنا معمولی بات نہیں۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مدینہ کی فضیلت، اہل مدینہ کی عزت اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کو دل میں جگہ دینی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل مدینہ کے خلاف برائی کا ارادہ کرنا بہت خطرناک عمل ہے۔
  • مدینہ کی حرمت اور اس کے رہنے والوں کا احترام حدیث سے ثابت ہے۔
  • مسلمان کو دوسروں کے لیے خیر چاہنی چاہیے، خاص طور پر اہل مدینہ کے لیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں