صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۳ - مدینہ والوں کے مد میں برکت کی دعا
مدینہ والوں کے مد میں برکت اور اہل مدینہ کی فضیلت
صحیح مسلم : ۳۳۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۳
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حدثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَعْدًا ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ : وَفِيهِ : مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ .
ابوہریرہ و سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی «اللَّهُمَّ بَارِكْ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِى مُدِّهِمْ» کہ ”یا اللہ برکت دے مدینہ والوں کے مُد میں۔“ اور آگے وہی مضمون بیان کیا جو اوپر کئی بار گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں صاف طور پر سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے مد میں برکت کی دعا فرمائی: یا اللہ! مدینہ والوں کے مد میں برکت دے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حدیث میں پھر وہی مضمون آیا کہ جو مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اللہ تعالیٰ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے۔ اس سے مدینہ کی فضیلت، اہل مدینہ کے لیے دعا، اور ان کے خلاف برائی سے بچنے کا پیغام ملتا ہے۔ یہاں برکت کی دعا رزق، پیمائش اور روزمرہ زندگی کے معاملے سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے، مگر ہمیں حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھ کر دعوے نہیں کرنے چاہییں۔ اصل بات یہی ہے کہ مدینہ کے لیے خیر اور برکت کی دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے مد میں برکت کی دعا فرمائی۔
- اہل مدینہ کے خلاف برائی کے ارادے پر سخت وعید آئی ہے۔
- مدینہ کے لیے خیر خواہی اور دعا حدیث کے مطابق پسندیدہ بات ہے۔
