صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۲ - اہل مدینہ کے خلاف برائی کی وعید
اہل مدینہ کے خلاف برائی یا حملے کا ارادہ
صحیح مسلم : ۳۳۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۶۲
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْكَعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۳۶۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں اہل مدینہ کے بارے میں برائی کے ارادے کے ساتھ ایک اور لفظ بھی آیا ہے، جس سے نقصان پہنچانے یا اچانک حملہ کرنے کا مفہوم سمجھ آتا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ مدینہ والوں کے خلاف بدخواہی معمولی بات نہیں۔ حدیث میں بتایا گیا کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ اس لیے اس حدیث کا مرکزی پیغام اہل مدینہ کی حرمت، مدینہ کی فضیلت اور برے ارادے سے بچنا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مدینہ اور اہل مدینہ کے بارے میں ادب، محبت اور خیر خواہی رکھے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں نیت اور ارادے کی سنجیدگی بھی سمجھاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل مدینہ کے خلاف برائی یا نقصان کا ارادہ سخت وعید کا سبب ہے۔
- مدینہ کے بارے میں دل کا معاملہ بھی درست ہونا چاہیے۔
- دوسری سند سے روایت آنا اسی مضمون کی تاکید کو ظاہر کرتا ہے۔
