صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۲ - متعہ قیامت تک حرام ہے
نکاح متعہ کی حرمت: قیامت تک کا واضح حکم
صحیح مسلم : ۳۴۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۲۲
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ : أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ كَانَ عَنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَه ، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا " .
ربیع بن سبرہ روایت:
ربیع بن سبرہ نے اپنے باپ سے روایت کیا، کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! میں نے تم کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالٰی نے اس کو قیامت کے دن تک کے لئے حرام کر دیا ہے سو جس کے پس کوئی ان میں کی ہو تو چاہیئے کہ اس کو چھوڑ دے اور جو چیز تم ان کو دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نکاح متعہ کے بارے میں بہت صاف بات بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا کہ پہلے عورتوں سے متعہ کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام کر دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی کہ جس کے پاس اس طرح کی کوئی عورت ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔ ایک اور اہم بات یہ فرمائی گئی کہ جو کچھ انہیں دیا جا چکا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لیا جائے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ متعہ کا سابقہ حکم باقی نہیں رہا، بلکہ اس سے منع کر دیا گیا۔ اس لیے نکاح متعہ، متعہ کی حرمت، اور دی ہوئی چیز واپس نہ لینے کا حکم اس روایت کے مرکزی نکات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- متعہ کی پہلے اجازت تھی، پھر اس سے منع کر دیا گیا۔
- حدیث کے مطابق متعہ قیامت تک کے لیے حرام قرار دیا گیا۔
- متعہ کی صورت میں جو چیز دی جا چکی ہو، اسے واپس لینے سے روکا گیا۔
- شرعی حکم بدلنے کے بعد مسلمان کو نئے حکم کی پیروی کرنی چاہیے۔
