صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۶ - پھوپھی اور خالہ کو نکاح میں جمع نہ کرنا
عورت، پھوپھی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت
صحیح مسلم : ۳۴۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۶
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمع نہ کرے کوئی عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں اور نہ کوئی عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع نہ کرے، اور نہ کوئی عورت اور اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرے۔ یہ حدیث نکاح کے رشتوں میں حد بندی کو بہت آسان الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرد کے نکاح میں ایسی دو عورتیں اکٹھی نہیں ہونی چاہئیں جن میں ایک عورت دوسری کی پھوپھی یا خالہ ہو۔ متن میں صرف یہی حکم آیا ہے، اس لیے بات کو اسی تک رکھنا مناسب ہے۔ نکاح کے مسائل، پھوپھی بھتیجی نکاح، اور خالہ بھانجی نکاح سے متعلق یہ حدیث ایک بنیادی حوالہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا۔
- عورت اور اس کی خالہ کو بھی ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا۔
- نکاح کے رشتوں میں شرعی حدوں کا خیال ضروری ہے۔
- حدیث کا حکم مختصر مگر واضح ہے۔
