صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۳ - بیوہ اور کنواری کی اجازت

نکاح میں لڑکی کی اجازت: بیوہ اور کنواری کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۳

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح نہ ہو جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اور باکرہ کا بھی نکاح نہ ہو جب تک اس سے اذن نہ لیا جائے۔“ لوگوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ! باکرہ سے اذن کیونکر لیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذن اس کا یہ ہے کہ چپ رہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نکاح میں عورت کی اجازت کا مسئلہ صاف الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے، اور کنواری کا نکاح بھی اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اذن نہ لیا جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کنواری کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا چپ رہنا اجازت ہے۔ اس روایت میں دو باتیں خاص ہیں: بیوہ سے صاف اجازت لی جائے، اور کنواری کی شرم کا لحاظ رکھا جائے۔ اس لیے نکاح میں رضامندی اور اجازت کو حدیث نے واضح جگہ دی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔
  • کنواری سے بھی نکاح کے لیے اجازت لی جائے۔
  • کنواری کی خاموشی کو اس کی اجازت بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں