صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۷ - بیوہ اور کنواری کے حق کی حدیث

بیوہ اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے: حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۷

وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُخْبِرُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ ، وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا " ،

ابن عباس روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۷ کا خلاصہ

اس روایت میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی مضمون آیا ہے کہ بیوہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے، اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ کنواری کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔ حدیث نکاح کے معاملے کو بہت سنجیدہ بناتی ہے، کیونکہ یہاں صرف خاندان کی بات نہیں، عورت کے اپنے اذن کا ذکر بھی ہے۔ بیوہ کے لیے لفظ زیادہ حق دار آیا، اور کنواری کے لیے اجازت طلب کرنے کا حکم آیا۔ اس لیے اس حدیث کو نکاح میں عورت کی رضامندی اور اجازت کے واضح بیان کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوہ کے حق کو نکاح کے معاملے میں واضح کیا گیا ہے۔
  • کنواری سے اجازت مانگی جائے۔
  • خاموشی کو اجازت بتایا گیا، خاص طور پر کنواری کے بارے میں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں