صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۸ - باپ بھی کنواری سے اجازت لے
کنواری سے باپ کی اجازت طلبی: نکاح کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۴۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۸
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ، وَرُبَّمَا قَالَ : وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا .
اسی سند سے مروی ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اپنے ولی سے (یعنی نکاح کی مختار ہے) اور کنواری سے اس کا باپ اس کی ذات کے لیے اجازت لے اور اجازت اس کی چپ رہنا ہے۔“ اور بعض وقت راوی نے کہا کہ ”اس کا چپ رہنا گویا اقرار کرنا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسی مضمون کو ایک اور لفظی انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ بیوہ اپنے ولی سے زیادہ اپنی ذات کی حق دار ہے، اور کنواری کے بارے میں آیا کہ اس کا باپ اس کی ذات کے لیے اس سے اجازت لے۔ پھر فرمایا گیا کہ اس کی اجازت اس کا چپ رہنا ہے، اور راوی نے کبھی یہ بھی کہا کہ اس کا چپ رہنا گویا اقرار ہے۔ اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ باپ کے حوالے سے بھی اجازت لینے کا ذکر آیا ہے۔ اس لیے نکاح میں رضامندی کا معاملہ صرف رسمی نہیں رہتا، بلکہ لڑکی سے پوچھنے اور اس کے جواب یا خاموشی کو سمجھنے کی بات آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوہ کو اپنے نکاح میں اپنے ولی سے زیادہ حق بتایا گیا ہے۔
- کنواری سے اس کا باپ بھی اجازت لے۔
- خاموشی کو اجازت یا اقرار کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
