صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۹ - سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۷۹

حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت : " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " ، قَالَت : فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَوُعِكْتُ شَهْرًا فَوَفَى شَعْرِي جُمَيْمَةً ، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ ، وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي ، فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا ، وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي ، فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ ، فَقُلْتُ : هَهْ هَهْ حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي ، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِن الْأَنْصَارِ ، فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ " .

عائشہ روایت:

نکاح کیا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں چھ برس کی تھی اور زفاف کیا مجھ سے اور میں نو برس کی تھی اور فرماتی ہیں کہ پھر میں مدینہ میں آئی اور وہاں مجھے بخار رہا ایک ماہ تک اور پھر میرے بال کانوں تک ہو گئے (یعنی بعد اس کے کہ مرض میں جھڑ گئے تھے) تب رومان کی ماں میرے پاس آئیں (یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں) اور میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں اور انہوں نے مجھے پکارا اور میں ان کے پاس آئی اور میں نہ جانتی تھی کہ مجھے کیوں بلایا ہے۔ سو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازہ پر کھڑا کر دیا اور میں ہاہ ہاہ کر رہی تھی (جیسے کسی کی سانس پھول جاتی ہے) یہاں تک کہ میری سانس پھولنا بند ہو گئی اور مجھے وہ ایک گھر میں لے گئیں اور وہاں چند عورتیں انصار کی تھیں اور وہ کہنے لگیں کہ اللہ خیر و برکت کرے اور تم کو حصہ ہو خیر میں سے غرض میری ماں نے ان کے سپرد کر دیا اور انہوں نے میرا سر دھویا اور سنگار کیا۔ اور مجھے اور کچھ خوف نہیں پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے چاشت کے وقت اور مجھے ان کے سپرد کر دیا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۷۹ کا خلاصہ

یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اپنے بیان پر مشتمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا جب وہ چھ برس کی تھیں، اور زفاف ہوا جب وہ نو برس کی تھیں۔ پھر وہ مدینہ آنے، ایک ماہ بخار رہنے، بال دوبارہ بڑھنے، والدہ ام رومان کے بلانے، انصاری عورتوں کی موجودگی، سر دھونے اور سنگار کیے جانے کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ روایت میں عورتوں کی طرف سے خیر و برکت کی دعا کا ذکر بھی ہے۔ اس حدیث کی وضاحت میں صرف وہی بات رکھی جائے گی جو متن میں ہے: نکاح، رخصتی کے وقت کا گھریلو اہتمام، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی یادداشت۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا بیان نقل ہوا ہے۔
  • نکاح اور زفاف کے وقت عمر کا ذکر متن میں موجود ہے۔
  • رخصتی کے موقع پر گھر کی عورتوں کی تیاری اور خیر کی دعا بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں