صحیح مسلم حدیث ۳۴۸۶ - نکاح سے پہلے دیکھنا اور مہر میں آسانی
نکاح، دیکھنا اور مہر: حدیث کی سادہ رہنمائی
صحیح مسلم : ۳۴۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۸۶
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا ؟ فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " ، قَالَ : قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا ، قَالَ : " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا ؟ " ، قَالَ : عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ ، كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ ، مَا عَنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ " ، قَالَ : فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ .
ابوہریرہ روایت:
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک انصار کی عورت سے عقد کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو دیکھ بھی لیا؟ اس لیےکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب بھی ہوتا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے مہر پر؟“ اس نے عرض کی چار اوقیہ چاندی پر۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار اوقیہ پر گویا تم لوگ اسی پہاڑ سے چاندی کھود لاتے ہو (یعنی جب تو اتنا زیادہ مہر باند ھتے ہو) اور ہمارے پاس نہیں ہے جو ہم تم کو دیں مگر اب ہم ایک لشکر کے ساتھ تم کو بھیج دیتے ہیں کہ اس میں تم کو حصہ ملے غنیمت کا۔“ اور قبیلہ بنی عبس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا تو اس کے ساتھ اسے بھی بھیج دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں صاف طور پر آتی ہیں: نکاح سے پہلے عورت کو دیکھنا اور مہر کا معاملہ۔ ایک شخص نے بتایا کہ اس نے انصار کی عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اسے دیکھا؟ اس نے کہا کہ دیکھ لیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے مہر پوچھا۔ اس نے کہا چار اوقیہ چاندی۔ اس پر نبی صلى الله عليه وسلم نے اندازِ تنبیہ میں فرمایا کہ گویا تم لوگ پہاڑ سے چاندی نکال لاتے ہو۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کی مدد کے لیے اسے ایک لشکر میں بھیجنے کا ذکر فرمایا تاکہ اسے حصہ ملے۔ اس حدیث میں مہر، نکاح، اور مالی آسانی کا پہلو نمایاں ہے، مگر بات متن کے اندر ہی رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں دیکھنے کا معاملہ اہم سمجھایا گیا ہے۔
- مہر کے بارے میں اتنا بوجھ نہ ڈالا جائے کہ آدمی مشقت میں پڑ جائے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال بھی کیا اور اس شخص کی عملی مدد کا راستہ بھی بتایا۔
