صحیح مسلم حدیث ۳۴۸۷ - قرآن سکھانا مہر بن سکتا ہے

مہر کی حدیث: لوہے کا چھلا اور قرآن سکھانے کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۸۷

حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ ، حدثنا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ . ح وَحدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَت : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ ، فَزَوِّجْنِيهَا ، فقَالَ : " فَهَلْ عَنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ " ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فقَالَ : " اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ ، فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا " ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ " ، فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ ، فقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي ، قَالَ سَهْلٌ : مَا لَهُ رِدَاءٌ ، فَلَهَا نِصْفُهُ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ ، وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ " ، فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا ، فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ ، فَلَمَّا جَاءَ ، قَالَ : " مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " ، قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا ، فقَالَ : " تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِكَ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّكْتكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " ، هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ، وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ ،

سہل بن سعد روایت:

ایک عورت آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ اپنی ذات آپ کو ہبہ کر دوں (اس میں اشارہ ہے اس آیت کی طرف«وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ» (۳۳-الاحزاب:۵۰) یعنی ”اگر کوئی عورت مؤمنہ بخش دے اپنی جان نبی کو اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ارادہ کریں اس سے نکاح کا اور یہ خاص ہے تجھ کو نہ اور مؤمنوں کو۔“اور اس سے جواز ہبہ کا ثابت خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے) پھر نظر کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اور خوب نیچے سے اوپر تک نگاہ کی اس کی طرف اور پھر سر مبارک جھکا لیا اور جب عورت نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کچھ حکم نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی اور ایک صحابی اٹھے اور عرض کی: کہ یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس حاجت نہیں ہے تو مجھ سے اس کا عقد کر دیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کی کہ کچھ نہیں اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنے گھر والوں کے پاس جا اور دیکھ کچھ پائے۔“ پھر وہ لوٹ آئے اور عرض کی: کہ اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں پایا پھر فرمایا: ”کہ جا دیکھ اگرچہ لوہےکا چھلا ہو۔“ وہ پھرگیا اور لوٹ آیا اور عرض کی: کہ اللہ کی قسم، اے اللہ کےرسول! ایک لوہےکاچھلا بھی نہیں مگر یہ میری تہبند ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس غریب کے پاس چادر بھی نہ تھی، سو اس میں سے آدھی اس عورت کی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری تہبند سے تمہارا کیا کام نکلے گا کہ اگر تم نے اس کو پہنا تو اس پر اس سے کچھ نہ ہو گا اور اگر اس نے پہنا تو تجھ پر کچھ نہ ہو گا۔“ پھر وہ شخص بیٹھ گیا (یعنی مایوس ہو کر) یہاں تک کہ جب دیر تک بیٹھا رہا تو کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو دیکھا کہ پیٹھ موڑ کر چلا۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا وہ پھر بلایا گیا جب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟“اس نے عرض کی مجھے فلاں فلاں سورۃ یاد ہے اور اس نے سورتوں کو گنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان کو اپنی یاد سے پڑھ سکتا ہے؟“ اس نے عرض کی کہ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا میں نے اسے تیرا مملوک کر دیا۔ (یعنی نکاح کر دیا) عوض میں اسے قرآن کے جو تجھے یاد ہے۔“ (یعنی یہ سورتیں اسے یاد کرا دینا یہی تیرا مہر ہےیہ روایت ہے ابن ابی حازم کی اور یعقوب کی روایت کے لفظ بھِی اسی کے قریب قریب ہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۸۷ کا خلاصہ

یہ حدیث مہر کے باب میں بہت مشہور ہے۔ ایک عورت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئی اور اپنے آپ کو آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے پیش کیا۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ فرمایا تو ایک صحابی نے نکاح کی درخواست کی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ اس نے گھر جا کر بھی دیکھا، مگر کچھ نہ ملا، حتیٰ کہ لوہے کا چھلا بھی نہیں تھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟ اس نے چند سورتیں بتائیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو قرآن تمہیں یاد ہے، اسی کے بدلے اسے تمہارے نکاح میں دیا۔ اس روایت میں مہر، قرآن کی تعلیم، اور آسان نکاح کا واضح ذکر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مہر مال ہی کی بڑی مقدار تک محدود نہیں، متن میں لوہے کے چھلے کا ذکر آیا ہے۔
  • قرآن کی تعلیم کو اس واقعہ میں مہر کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
  • نکاح کے معاملے میں آسانی اور عملی حل کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں