صحیح مسلم حدیث ۳۴۹۷ - سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آزادی ہی مہر

سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح: آزادی بطور مہر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۹۷

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ ، قَالَ : فَصَلَّيْنَا عَنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ ، وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ ، فَأَجْرَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ ، قَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ ، فقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ : وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، قَالَ : وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَاءَهُ دِحْيَةُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ ، فقَالَ : " اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً " ، فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ ، فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ ، وَالنَّضِيرِ ، مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ ، قَالَ : " ادْعُوهُ بِهَا " ، قَالَ : فَجَاءَ بِهَا ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " خُذْ جَارِيَةً مِنَ السَّبْيِ غَيْرَهَا " ، قَالَ : وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا ، فقَالَ لَهُ ثَابِتٌ : يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : " نَفْسَهَا ، أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا ، فقَالَ : " مَنْ كَانَ عَنْدَهُ شَيْءٌ ، فَلْيَجِئْ بِهِ " ، قَالَ : وَبَسَطَ نِطَعًا ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْأَقِطِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسَّمْنِ ، فَحَاسُوا حَيْسًا ، فَكَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کیا خیبر پر اور ہم لوگوں نے وہاں نماز پڑھی صبح کی بہت اندھیرے میں۔ اور سوار ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سوار ہوئے سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور میں ردیف تھا سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا اور روانہ ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گلیوں میں خیبر کی اور میرا زانو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے لگ لگ جاتا تھا اور تہبند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے کھسک گئی تھی اور میں دیکھتا سفیدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی پھر جب شہر کے اندر گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر خراب ہوا خیبر، ہم جب اترتے ہیں کسی قوم کےآنگن میں تو برا ہوتا ہے حال ڈرائے گئے لوگوں کا۔“ اس آیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار پڑھا یعنی «إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» (۳۷-الصفات:۱۷۷) سے اخیر تک اور اتنے میں وہاں کے لوگ اپنے اپنے کاموں میں نکلے اور انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ چکے اور عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آ گیا۔ کہا راوی نے کہ غرض ہم نے لے لیا خیبر کو جبراً، قہراً اور قیدی لوگ جمع کیے گئے اور دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ایک لونڈی مجھے عنایت کیجئیے ان قیدیوں میں سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ ایک لونڈی لے لو۔“ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا اور ایک شخص نے آ کے کہا کہ اے نبی اللہ تعالیٰ کے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ ر کو حیی کی بیٹی دے دی جو سردار ہے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی اور وہ کسی لائق نہیں سوا آپ کے تو فرمایا: کہ ”بلاؤ ان کو مع اس لونڈی کے۔“کہا راوی نے کہ پھر وہ اسے لے کر آئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو دحیہ سے فرمایا: ”تم کوئی اور لونڈی لے لو قیدیوں میں سے اس کے سوا۔“ کہا راوی نے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کیا صفیہ کو اور ان سے نکاح کر لیا۔ سو ثابت نے ان سے کہا کہ اےابوحمزہ! ان کا مہر کیا باندھا؟ انہوں نے؟کہا یہی مہر تھا کہ ان کو آزاد کر دیا اور نکاح کر لیا یہاں تک کہ پھر جب وہ راہ میں تھے تو سنگار کر دیا ان کا سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اور پیش کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کو رات میں۔ اور صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوشہ (دولہا) بنے ہوئے تھے پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جس کے پاس جو کچھ ہو (یعنی کھانے کی قسم سے) وہ لائے“ اور ایک دستر خوان چمڑے کا بچھا دیا اور کوئی اقط لانے لگا۔ (دہی سکھا کر بناتے ہیں) اور کوئی کھجور اور کوئی گھی ان سب کو توڑ تاڑ کر خوب ملایا اور یہ ولیمہ ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۹۷ کا خلاصہ

یہ حدیث طویل ہے اور اس میں خیبر، قیدیوں، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، نکاح، مہر اور ولیمہ کا بیان ہے۔ روایت کے مطابق دحیہ رضی اللہ عنہ نے قیدیوں میں سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لیا، پھر نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس بات پہنچی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے دحیہ کو ان کے بجائے دوسری لونڈی لینے کو فرمایا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان سے نکاح فرمایا۔ جب ثابت نے پوچھا کہ ان کا مہر کیا تھا تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خود ان کی آزادی ہی مہر تھی۔ راستے میں ولیمہ بھی ہوا، جس میں لوگوں نے کھجور، اقط اور گھی لا کر شریک کیا۔ اس حدیث میں آزادی، نکاح، مہر اور سادہ ولیمہ ایک ساتھ آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آزادی کو مہر قرار دیا گیا۔
  • ولیمہ میں لوگوں نے اپنے پاس موجود کھانے کی چیزیں پیش کیں۔
  • روایت میں خیبر کے واقعہ کے بعد نکاح اور ولیمہ کا بیان آتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں