صحیح مسلم حدیث ۳۵۰۵ - دعوت کے بعد گھر میں دیر نہ کرنا
دعوت کے آداب کی حدیث: کھانے کے بعد دیر تک نہ بیٹھیں
صحیح مسلم : ۳۵۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۰۵
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ : حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ " ، زَادَ عَاصِمٌ ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا ، قَالَ : فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ، قَالَ : فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ ، إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53 .
انس روایت:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نکاح کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت حجش سے۔ لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا پھر وہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیار ہوتے ہیں۔ گویا کہ کھڑے ہوتے ہیں، پھر بھی وہ لوگ نہیں اٹھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ (یہ نہیں اٹھتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ان میں سے کچھ لوگ اٹھ گئے اور عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی روایتوں میں یہ بات زیادہ کی کہ تین آدمی ان میں سے بیٹھے رہ گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اندر جائیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہیں۔پھر وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے اور میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ سو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے بیچ میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کہ ”اے ایمان والو! مت داخل ہو گھروں میں نبی کے۔ مگر جب اجازت ملے تم کو کھانے کی اور نہ انتظار کرتے رہو اس کے پکنے کا“ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِىِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ)» تک۔ یعنی پوری آیت «إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا» تک اتری۔
صحیح مسلم حدیث ۳۵۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعوت کے آداب اور آیت حجاب ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلى الله عليه وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگوں کو بلایا اور کھانا کھلایا۔ کھانے کے بعد کچھ لوگ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایسے انداز میں تیاری کی جیسے اٹھنا چاہتے ہوں، مگر وہ نہ اٹھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم خود کھڑے ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھ گئے، مگر تین آدمی بیٹھے رہے۔ بعد میں جب وہ چلے گئے تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو خبر دی۔ آپ صلى الله عليه وسلم گھر میں داخل ہوئے اور انس رضی اللہ عنہ بھی داخل ہونا چاہتے تھے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے اور ان کے درمیان پردہ ڈال دیا۔ اسی موقع پر آیت نازل ہوئی کہ نبی کے گھروں میں اجازت کے بغیر نہ داخل ہو اور کھانے کے بعد پھیل جاؤ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت میں کھانے کے بعد میزبان کی سہولت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- بلا ضرورت دیر تک بیٹھنا میزبان کے لیے گراں ہو سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر میں داخلے کے لیے اجازت کا ادب بیان ہوا۔
- اس واقعے کے ساتھ آیت حجاب کے نزول کا ذکر ہے۔
