صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۵ - ولیمہ میں حق داروں کو نہ روکیں

ولیمہ کی دعوت: حق داروں کو روکنا اور بے رغبت لوگوں کو بلانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۲۵

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ : طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا ، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدتر طعام اس طعام ولیمہ کا کہ جو اس میں آتا ہے روکا جاتا ہے اور جو نہیں آتا اس کو بلاتے پھرتے ہیں۔ اور جو دعوت میں نہ آیا اس نے نافرمانی کی اللہ عزوجل کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمے کے ایک غلط انداز کی نشاندہی فرمائی۔ فرمایا کہ بدتر کھانا اس ولیمہ کا ہے جس میں جو آتا ہے اسے روکا جاتا ہے، اور جو نہیں آتا اسے بلایا جاتا ہے۔ اس سے بات مزید صاف ہوتی ہے کہ مسئلہ کھانے کا نہیں، دعوت کے رویے کا ہے۔ اگر ضرورت مند یا آنے کے خواہش مند لوگوں کو دور رکھا جائے، اور صرف ایسے لوگوں کو بلایا جائے جو دعوت کو اہم نہ سمجھیں، تو یہ ولیمہ اچھی شکل میں نہیں رہتا۔ حدیث کے آخر میں دعوت کا جواب نہ دینے کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کہا گیا ہے، اس لیے دعوت دینے اور قبول کرنے دونوں میں سنجیدگی ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولیمہ میں آنے کے خواہش مند اور ضرورت مند لوگوں کو روکنا برا رویہ ہے۔
  • دعوت کا جواب دینا حدیث میں اہم عمل بتایا گیا ہے۔
  • ولیمہ کو دکھاوے کے بجائے خیر خواہی کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں