صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۷ - معمولی دعوت بھی قبول کریں

معمولی دعوت قبول کرنے کی حدیث: بکری کے کھر پر بھی بلائیں تو جائیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۷

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " إِذَا دُعِيتُمْ إِلَى كُرَاعٍ ، فَأَجِيبُوا " .

ابن عمر روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بلائے جاؤ بکری کے کھر کی طرف، تو بھی قبول کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں دعوت قبول کرنے کی تعلیم بہت صاف انداز میں آئی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکری کے کھر کی طرف بلایا جائے تو بھی قبول کرو۔ اس میں کھانے کی قیمت یا شان کو معیار نہیں بنایا گیا۔ بکری کا کھر ایک معمولی چیز کے طور پر ذکر ہوا، مگر حدیث کا مقصد یہ ہے کہ دعوت دینے والے کی دعوت کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ جب کوئی بلاتا ہے تو صرف کھانا مقصود نہیں ہوتا؛ بلانے کا تعلق اور محبت بھی ہوتی ہے۔ البتہ اسی متن سے ہم اتنا ہی سمجھتے ہیں کہ دعوت چھوٹی ہو تب بھی اسے رد کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ معمولی دعوت، دعوت قبول کرنے کی حدیث، اور سادہ مہمان داری کے لیے یہ روایت بہت مؤثر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت کی قیمت یا مقدار کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • بکری کے کھر جیسی معمولی دعوت پر بھی قبول کرنے کا حکم آیا ہے۔
  • دعوت کا جواب دینا اصل بات ہے، کھانے کی شان نہیں۔
  • حدیث سادگی اور باہمی تعلق کا ایک صاف سبق دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں