صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۸ - کھانے کی دعوت کا جواب

کھانے کی دعوت کی حدیث: آؤ، پھر چاہو تو کھاؤ یا چھوڑ دو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۱۸

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَا : حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ " وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى : إِلَى طَعَامٍ ،

جابر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بلایا جائے کوئی کھانے کی طرف تو آئے۔ پھر چاہے کھائے یا نہ کھائے۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں کھانے کا لفظ نہیں ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۳۵۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع کھانے کی دعوت قبول کرنا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے تو وہ آئے، پھر چاہے کھائے اور چاہے چھوڑ دے۔ یہ حدیث دعوت کے آداب کو بہت آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ اصل حکم یہ ہے کہ بلایا جائے تو حاضر ہو۔ کھانے کے بارے میں حدیث میں نرمی ہے کہ اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت قبول کرنا صرف کھانے کے لیے نہیں، بلکہ بلانے والے کے بلاوے کا جواب دینا بھی ہے۔ اس متن میں کھانے کی قسم، مقدار، یا دعوت کی جگہ کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی لیے کھانے کی دعوت، دعوت قبول کرنے کی حدیث، اور کھائے یا نہ کھائے کے مسئلے میں یہ روایت اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانے کی دعوت ملے تو اس میں حاضر ہونا چاہیے۔
  • حاضر ہونے کے بعد چاہے کھائے یا نہ کھائے، حدیث میں یہ اجازت آئی ہے۔
  • دعوت کا جواب دینا کھانے سے الگ ایک اہم بات ہے۔
  • حدیث میں آسانی اور نرمی کا انداز صاف نظر آتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں